حکومت پاکستان نے بحق سرکارضبط سامان کی الیکٹرانک نیلامی کا نیا طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے جسکے تحت نیلامی میں حصہ لینے والے افراد کے لئے درست قومی شناختی کارڈ یا نائیکوپ کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن اور کم از کم 25 ہزار روپے یکمشت فیس کی ادائیگی لازم قراردیدی ہے۔اسلحہ و گولہ بارود، منشیات یا ممنوعہ اشیا، فحش مواد اور قانون کے تحت ممنوعہ سامان کی نیلامی پر پابندی ہوگی۔
بتایاگیاہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں نئی ترامیم کر دی ہیں۔اس بارے میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے قواعد کے تحت نیلامی میں حصہ لینے والے افراد کے لئے درست قومی شناختی کارڈ یا نائیکوپ کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن اور کم از کم 25 ہزار روپے یکمشت فیس کی ادائیگی لازم ہوگی جبکہ کامیاب رجسٹریشن پر درخواست گزار کو منفرد شناختی نمبر جاری کیا جائے گا۔
نیلامی کے لئے مختص سامان کی تفصیلات، تصاویر اور متعلقہ دستاویزات الیکٹرانک نیلامی کے نظام میں اپ لوڈ کی جائیں گی اور سامان کی محفوظ تحویل، معائنہ اور کامیاب بولی دہندہ کے حوالے کرنے کی ذمہ داری متعلقہ کسٹوڈین کی ہوگی، ہر نیلامی یا سامان کے لاٹ کے لیے الگ منفرد نمبر جاری کیا جائے گا جبکہ کم از کم قیمت کا تعین ایک ویلیوایشن کمیٹی کرے گی جس میں ایڈیشنل کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر شامل ہوں گے، کمیٹی سامان کی معیاد و مدت، حالت، باقی ماندہ مدت استعمال اور متعلقہ مارکیٹ قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت مقرر کرے گی، اگر کوئی لاٹ مسلسل تین نیلامیوں میں فروخت نہ ہو تو کمیٹی حوالہ جاتی قیمت میں بیک وقت 10 فیصد تک کمی کر سکے گی۔
قواعد کے مطابق سامان کی آن لائن بولی پہلی بولی موصول ہونے کے وقت سے 72 گھنٹے تک جاری رہے گی اور سب سے زیادہ بولی کو مقررہ قیمت اور دیگر شرائط کے مطابق منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، مجاز افسر بولی کا عمل ختم ہونے کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر سب سے زیادہ بولی قبول کرے گا، تاہم مقررہ قیمت سے کم بولی کی منظوری مخصوص شرائط کے تحت کمشنر ان لینڈ ریونیو دے سکے گا بشرطیکہ بولی مقررہ قیمت کے 80 فیصد سے کم نہ ہو جبکہ اس سے بھی کم بولی کی منظوری چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو تحریری وجوہات کی بنیاد پر دے سکے گا۔
کامیاب بولی دہندہ کومنظور شدہ بولی کی مکمل رقم اور قابل اطلاق ٹیکس، ڈیوٹیز، فیس اور دیگر چارجز مقررہ مدت میں ادا کرنا ہوں گے جبکہ مکمل ادائیگی کی تصدیق اور الیکٹرانک ریلیز آرڈر کے اجرا سے قبل سامان حوالےنہیں کیاجائے گا،ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں فروخت منسوخ کرنے،قابل اطلاق بولی سکیورٹی ضبط کرنے،اگلے کامیاب بولی دہندہ کوسامان پیش کرنے یا دوبارہ نیلامی کرانے کی کارروائی کی جا سکے گی جبکہ نادہندہ بولی دہندہ کو سماعت کا موقع دینے کے بعد زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کے لئےآئندہ نیلامیوں میں شرکت سے معطل بھی کیا جا سکے گا۔
ایف بی آرکے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پہلے قانونی اخراجات اوراسکے بعدٹیکسوں، ڈیوٹیز، جرمانوں، سرچارجز اوروفاقی وصوبائی واجبات کی ادائیگی کےلئے استعمال ہوگی جبکہ باقی رقم اصل مالک کوسیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 40 ایف کے مطابق ادا کی جائے گی۔































