اسلام آبادمیں ماڈل چائلڈ کورٹ اورانٹرایکٹو ریسورس سینٹر قائم

اسلام آباد (ویب ڈیسک)
23 اکتوبر 2026

وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں بچوں کے لئے ماڈل چائلڈ کورٹ اورانٹرایکٹو ریسورس سینٹر قائم کر دیا گیاہے۔

اس بارے میں جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی جوڈیشل اکیڈمی، یونیسیف اور گروپ ڈیولپمنٹ پاکستان نے مشترکہ طور پر ماڈل چائلڈ کورٹ اور انٹرایکٹو ریسورس سینٹر قائم کیا ہے۔نئے مرکز کا مقصد عدالتی نظام کو بچوں کی ضروریات، حقوق اور بہترین مفادات کے مطابق مؤثر بنانا ہے۔ماڈل چائلڈ کورٹ بچوں کےلئے دوستانہ عدالتی طریقہ کار متعارف کرانے کی کوششوں کا تسلسل ہے اور یونیسیف کے بچوں کے لئے نظام انصاف کی از سر نو تشکیل کے پروگرام کے مقاصد کو آگے بڑھایا جائے گا۔

اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ ماڈل چائلڈ کورٹ اور انٹرایکٹو ریسورس سینٹر میں ایک دوسرے سے منسلک 7 خصوصی حصے شامل ہیں،نئے عدالتی مرکز میں بچوں کی عمر کے مطابق انتظار گاہیں اور بچوں کے لیے دوستانہ عدالتی کمرہ قائم کیا گیا ہے، بچوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی دینے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی میڈیا روم بھی شامل ہے، جووینائل جسٹس کمیٹی اور متبادل تنازعات کے حل کے لیے الگ کمرہ بھی قائم کیا گیا ہے، نئے مرکز میں جج صاحبان کے چیمبرز اور عملی تربیت کے لیے انٹرایکٹو ریسورس سینٹر بھی موجود ہے، خصوصی سہولیات کا مقصد بچوں کو عدالتی کارروائی کے دوران محفوظ اور غیر خوفناک ماحول فراہم کرنا اور ان کی عزت نفس اور نجی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

نیا مرکز پاکستان بھر کے ججز اور نظام انصاف سے وابستہ پیشہ ور افراد کی عملی تربیت کے لیے استعمال ہوگا، مقدمات کی مثالوں اور فرضی عدالتی مشقوں کے ذریعے عدالتی عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بہتر بنائی جائیں گی، ججز کو بچوں کے لیے دوستانہ ماحول میں عدالتی سماعتیں کرنے، بچوں کو غیر ضروری عدالتی کارروائی سے بچانے اور متبادل طریقوں سے تنازعات حل کرنے، فیملی کیسز میں بچوں کی مؤثر شرکت یقینی بنانے اور ویڈیو لنک کے ذریعے بچوں کی گواہی ریکارڈ کرنے کی تربیت دی جائے گی، نئے مرکز کے ذریعے عدالتی تربیت دینے والے ماہرین تیار کرنے کا بھی منصوبہ ہے اور یہ صوبائی جوڈیشل اکیڈمیوں اور ملک بھر کی عدالتوں کے لیے ایک مثالی نمونہ بنے گی۔

یونیسیف کی پاکستان میں نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ ہر بچے کو ایسا انصاف ملنا چاہیے جس میں اسے سب سے پہلے ایک بچے کے طور پر تسلیم کیا جائے، قانون سے متعلق معاملات میں بچوں کے بہترین مفادات کے مطابق ان کا تحفظ اور ان کی آواز سنا جانا ضروری ہے، بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اچھے ارادوں کے ساتھ خصوصی پیشہ ورانہ مہارت بھی ضروری ہے۔

اعلامیہ کے مطابق جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بچوں کو انصاف فراہم کرنا آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، نظام انصاف سے بچے کے ہر رابطے میں اس کی عزت نفس اور تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے، بچوں کے بہترین مفادات اور بدلتی ہوئی ضروریات کو عدالتی کارروائی میں اہمیت دینا ہوگی، انٹرایکٹو ریسورس سینٹر اور ماڈل چائلڈ کورٹ بچوں کے حقوق کو عدالتی عمل میں مؤثر بنانے کی جانب اہم قدم ہیں۔

وفاقی جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل جہانزیب شنواری نے کہا کہ وفاقی جوڈیشل اکیڈمی، یونیسیف اور گروپ ڈیولپمنٹ پاکستان بچوں کے لیے دوستانہ نظام انصاف کو فروغ دے رہے ہیں، انٹرایکٹو ریسورس سینٹر اور ماڈل چائلڈ کورٹ سے عدالتی شعبے کی عملی تربیت مضبوط ہوگی، ہر بچے کی عزت نفس، حقوق اور بہترین مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہمارا مقصد ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

افغانستان سے پنپتی دہشت گردی کا خدشہ، روس اور ازبکستان کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 23 اکتوبر 2026 افغانستان سے دراندازی اور...

بلی جین کنگ کپ:پاکستان کی بھوٹان کے خلاف مسلسل دوسری فتح

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 23 اکتوبر 2026 اسلام آباد میں جاری...

آئیسکو کی نجکاری اہم مرحلے میں ،ترکیہ سعودی عرب اور پاکستان کی 10 فرمز پری کوالیفائی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 23 اکتوبر 2026 پاکستان حکومت کی جانب...

تازہ ترین