ڈاکٹر نوشیروان برکی کے زیر انتظام لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اقرباپروری کاانکشاف، معدنیات کے بعدنیاسکینڈل آگیا

پشاور(بیورورپورٹ)
22 اکتوبر 2026

کے پی کے میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اقربا پروری کی مبینہ انوکھی مثال سامنے آ گئی ہے۔ہسپتال ڈائریکٹر کی بھرتی پر سنگین اعتراضات اٹھادئیے گئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق محمد طارق جو ڈاکٹر نوشیروان برکی کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے ہیں، انہیں اہم ترین عہدے سے نوازا گیا جس سے صوبائی خزانے کوکروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق آڈٹ میں سنگین اعتراضات، اعلیٰ سطح انکوائری، نیب اور محکمہ انسداد بدعنوانی سے تحقیقات اور رقم وصولی کی سفارش کے باوجود سابقہ حکومت نے مذکورہ رقم وصول کرنے کے بجائے بطور انعام انہیں پورے ہسپتال کی قیادت حوالے کر دی، ہسپتال کی 100 سالہ تاریخ میں پہلی بار سیاسی بنیادوں پر ایک عام آدمی کو ہسپتال کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور اسکول سانحہ میں زخمی بچوں کی عیادت کے لئے پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا کہ ہسپتال ڈائریکٹر خود ڈاکٹر نہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق محمد طارق کو 16 جنوری 2017 کو سلیکشن اینڈ پروموشن کمیٹی کے ذریعے ایسوسی ایٹ ہسپتال ڈائریکٹر تعینات کیا گیا، ان کی مقررہ تنخواہ 5 لاکھ 8 ہزار 892 روپے ماہانہ کے حساب سے اگست 2019 تک 43 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 2 کروڑ 18 لاکھ 82 ہزار 356 روپے ادا کیے گئے۔

آڈٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مذکورہ آسامی کے لیے ہسپتال یا ہیلتھ سروسز مینجمنٹ، بزنس مینجمنٹ، پبلک ہیلتھ یا پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر ڈگری اور انتظامی سطح پر کم از کم 7 سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم متعلقہ افسر نے 2010 میں ایم بی اے کیا تھا اور آڈٹ کے مطابق درخواست اور تقرری کے وقت ان کا بعد از ڈگری تجربہ مطلوبہ 7 سال سے کم تھا۔

رپورٹ میں تعلیمی اسناد اور تجربے کے سرٹیفکیٹس میں بھی متعدد تضادات کی نشاندہی کی گئی، آڈٹ کے مطابق امیدوار کے سی وی اور تجربہ سرٹیفکیٹس میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ادارے سہارا میں ملازمت کی مدت مختلف درج تھی، دونوں اداروں میں ملازمت کی مدت کے درمیان بظاہر تضاد بھی سامنے آیا۔

آڈٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سہارا میں تجربے کا ایک سرٹیفکیٹ 16 دسمبر 2008 کو جاری ہوا جبکہ اس میں درج ملازمت کی مدت 20 جنوری 2009 تک بتائی گئی تھی۔

آڈٹ نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں انتخاب کا عمل مشکوک اور غیر شفاف دکھائی دیتا ہے اور مطلوبہ بعد از ڈگری تجربہ نہ ہونے کے باوجود تعیناتی کے ذریعے اہل امیدواروں کو محروم رکھا گیا، آڈٹ نے سفارش کی تھی کہ معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے اور نیب،محکمہ انسداد بدعنوانی اور حکومتی انسپکشن ٹیم کے ذریعے الزامات کی تحقیقات کر کے قواعد کے مطابق رقم کی ریکوری کا جائزہ لیا جائے۔

مزیداسی طرح کی
Related

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور میں معدنیات کے شعبے میں بدترین کرپشن کا انکشاف

پشاور(بیورورپورٹ) 22 اکتوبر 2026 صوبہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور...

صاف ستھرا خیبرپختونخوا مہم، گورنر راج کے بعد نئی صوبائی حکومت ان ایکشن

پشاور(بیورورپورٹ) 22 اکتوبر 2026 صوبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد...

تازہ ترین