خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور میں معدنیات کے شعبے میں بدترین کرپشن کا انکشاف

پشاور(بیورورپورٹ)
22 اکتوبر 2026

صوبہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن اور لوٹ مار کا انکشاف ہوا ہے، سرکاری آڈٹ رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ منظم کرپشن ہے۔

رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے خزانے کو صرف ایک سال میں 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا، رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی سرپرستی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ سے صرف سال 2022 اور 2023 کے دوران غیر قانونی کان کنی کے ذریعے 8 ارب روپے سے زائد کی لوٹ مار کی گئی۔

آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ نادہندہ ٹھیکہ داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات جان بوجھ کر وصول نہیں کئے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کرپشن کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ چیک پوسٹوں، انسپکٹرز اور محکمہ معدنیات کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی مائننگ پورے صوبے میں جاری رہی، جس سے مزید 3 ارب 8 کروڑ روپے صوبائی خزانے سے نکال لیے گئے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق شاہراہوں اور سمال ڈیمز کی تعمیر کے نام پر بجری اور ریت کے غیر قانونی طور پر نکالے جانے سے 3 ارب 7 کروڑ روپے ہڑپ کر لیے گئے، معدنیات پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 54 کروڑ 72 لاکھ روپے وصول ہی نہیں کیے گئے، جبکہ کوئلہ، باکسائیٹ، لائم اسٹون اور سوپ اسٹون کی کانوں سے 81 کروڑ روپے سے زائد کے بقایاجات بھی معاف کر دیے گئے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پشاور میں محکمہ معدنیات کی زمین 10 ہزار روپے فی ایکڑ کے بجائے صرف 200 روپے فی ایکڑ پر دے کر 14 کروڑ روپے عوام کی جیب سے نکال لیے گئے، کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، ہری پور اور دیگر اضلاع میں سمال ڈیمز کے واجبات کی عدم وصولی سے 53 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ مردان میں رائلٹی کی مد میں 6 کروڑ 36 لاکھ روپے بھی دبا لئےگئے۔

آڈیٹر جنرل نے ذمہ داران کے خلاف انکوائری کی سفارش کی ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

صاف ستھرا خیبرپختونخوا مہم، گورنر راج کے بعد نئی صوبائی حکومت ان ایکشن

پشاور(بیورورپورٹ) 22 اکتوبر 2026 صوبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد...

تازہ ترین