پاکستان:IMF کی ایک اورشرط پوری،افسران کے اثاثوں کی ڈیجیٹل ڈیکلریشن کانظام نافذ

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) حکومت پاکستان نےآئی ایم ایف کےساتھ چوتھے اقتصادی جائزے پر 23ستمبرکوہونیوالے مذاکرات سے قبل سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی ڈیجیٹل ڈیکلریشن کانظام نافذکردیاہے۔

ذرائع نے مذید بتایاکہ یہ نظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اوراسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اشتراک سے متعارف کرایا گیا ہے۔اس نظام کے تحت گریڈ 17 اوراس سے اوپر کے تمام افسران اب آمدن اوراثاثوں کی تفصیلات آن لائن جمع کرائیں گے۔

نئے نظام کے خدوخال:

– سرکاری افسران کوآمدن اور اثاثوں کی ڈیکلریشن ایف بی آر کے مخصوص آن لائن پورٹل پر جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔پرانے طریقہ کار کی جگہ اب آن لائن نظام نافذ رہے گا۔
– مالی سال 2025-26 کے لیے ڈیجیٹل اثاثہ ڈیکلریشن جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
– یہ ڈیکلریشن سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے سیکشن 15-A اور سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے تحت لازم قرار دی گئی ہے۔
– ایف بی آر پورٹل پر اکاؤنٹ بنانے کے لئے افسران اپنا نام، عہدہ، ذاتی ای میل، موبائل نمبر اور شناختی کارڈ نمبر دیں گے۔ ای میل ایسی ہونی چاہیے جو تعیناتی تبدیل ہونے سے متاثر نہ ہو۔
– کیڈر ایڈمنسٹریٹر افسران کی تفصیلات ایف بی آر کو فراہم کرے گا اور ایف بی آر اکاؤنٹ بننے سے متعلق اطلاع دے گا۔
– لاگ ان شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے ہوگا، پاس ورڈ بھولنے پرای میل یا ایس ایم ایس کے ذریعے ون ٹائم پاس ورڈ دیا جائے گا۔

افسران ڈیش بورڈ میں موجود ڈیکلریشن کے آپشن سے تفصیلات جمع کرائیں گے۔ جمع کرائے گئے گوشواروں کی ایف بی آر رسک بیسڈ چیکس کے ذریعے تصدیق کرے گا۔

اثاثہ جات گوشواروں کے غیر حساس حصے ایف بی آر ویب سائٹ پر عوام کے لئےشائع کئے جائیں گے۔

افسران کوہدایت کی گئی ہے کہ معلومات کی درستگی اور مکمل ہونے کو یقینی بنایا جائے۔غلط بیانی،معلومات چھپانے یا گوشوارے جمع نہ کرانے پر متعلقہ قواعد کے تحت محکمانہ کارروائی ہوگی۔

اثاثہ جات گوشواروں میں غلطی کی درستی کی اجازت 30 نومبر 2026 تک ہوگی اور گوشوارےجمع کرانے کے بعد افسر کے پورٹل پر سبمٹڈ ٹاسکس ٹیب میں ظاہر ہوں گے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین