نیویارک (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کواعلان جنگ سمجھا جائے گا، میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے، عالمی معیشت کے مراکز آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے چوتھی بار خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے خلیل الرحمان کوجنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اورمکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے، سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ
وزیراعظم شہبا زشریف نے قائداعظم محمد علی جناح کے اقوام متحدہ سے متعلق قول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑے ہیں۔دنیا کے امن اور خوشحالی کے ساتھ ہیں، سلامتی کونسل میں قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری عالمی امن کے لیے ہمارے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔
شہبا زشریف نے کہا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطی کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا، جنگ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا، آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آ گئے، اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا، اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لا کر تاریخی پیشرفت کی
شہباز شریف نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر خدمات پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوششوں پر ممنون ہوں
وزیراعظم شہبا زشریف نے کہا کہ افسوسناک طور پر امن دشمن کارروائیوں سے ایک بار پھر خطرناک اضافہ ہوا ہے، میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے، عالمی معیشت کے مراکز آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی امن و استحکام کا ضامن ہے، تینوں ملکوں کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں
وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری بھائی بہنوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی ہے، بھارت کے یکطرفہ فیصلے کو اقوام متحدہ اور ثالثی عدالت نے بھی مسترد کر دیا ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا
انہوں نے کہا کہ نسلوں سے فلسطینی عوام آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، غزہ میں پیدا ہونے والے بچے کو دنیا میں کہیں بھی پیدا ہونے والے بچے کی طرح جینے کا حق حاصل ہے، اسرائیلی تشدد کا مغربی کنارے تک پھیلنا انتہائی تشویشناک ہے، فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کو ظاہر کرتی ہے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، ہم لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کرتے ہیں
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صف اول کی ریاست کے طور پر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریبا ایک لاکھ قیمتی جانوں کی قربانی دی، 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا، ہماری مسلح افواج اور بہادر شہریوں کی قربانیوں کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے، امن پسند دنیا پاکستان کی لازوال قربانیوں کو جھٹلا نہیں سکتی۔






























