اسلام آباد (ویب ڈیسک)
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ممکنہ کرپشن اورمبینہ ملی بھگت کےامکانات کے خاتمہ کوسو فیصد یقینی بنانے کی خاطر بورڈ ان کونسل کی منظوری سے ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کا براہ راست رابطہ ختم کرنے کے لئے اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کر دیاگیاہے۔ایف بی آر کی بورڈ ان کونسل نے فیس لیس سینٹر کے قیام کی منظوری دی ۔نیشنل فیس لیس سینٹر سے پاکستان میں ٹیکس آڈٹ اور اسسمنٹ کے طریقہ کار کو تبدل کردیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق پہلے اگر کسی ٹیکس دہندہ کا گوشوارہ آڈٹ کے لئے منتخب ہوتا تواسے ایک مخصوص دفتر کے ایک مخصوص افسر سے اکثر بالمشافہ معاملہ کرنا پڑتا تھالیکن اب اس نئے نظام میں یہ رابطہ ختم ہو جائے گا۔
اب کیسز کا انتخاب کوئی افسر نہیں بلکہ ایک کمپیوٹرائزڈ،رسک پرمبنی نظام کرے گا۔جسکے بعد ہر کیس خودکار طریقے سے ملک میں کہیں بھی موجود کسی بھی افسر کوسونپ دیا جائے گا۔ٹیکس دہندہ کو معلوم نہیں ہوگا کہ افسر کون ہے جو اسکا کیس دیکھ رہاہے اور افسر کا اس بات میں کوئی اختیاربھی نہیں ہوگا کہ کون سا کیس اسکے پاس آئے گااور کون سا نہیں آئے گا۔
ہرکیس تین الگ الگ ہاتھوں سے گزرے گا۔ایک افسر آڈٹ کرے گا جبکہ دوسرا اسسمنٹ کرے گا اور تیسرا کوئی بھی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے اس کام کے معیار کا جائزہ لے گا۔کوئی ایک افسر شروع سے آخر تک کسی ٹیکس دہندہ کے کیس پر اختیار نہیں رکھے گا۔
ذرائع نے مذید بتایاکہ تمام نوٹس،جوابات اور سماعتیں ایف بی آر کے آئی آر ایس نظام کے ذریعے الیکٹرانک طور پر ہوں گی۔جہاں قانون کے تحت موقع پرتصدیق یا ٹیکس وصولی ضروری ہوگی وہ کام ایک علیحدہ فیلڈ ٹیم انجام دے گی۔نیشنل فیس لیس سینٹر کو قانونی اختیار فنانس ایکٹ 2026 سے حاصل ہے۔اس کی سربراہی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کرے گا اوراس میں فیس لیس آڈٹ، فیس لیس اسسمنٹ، کوالٹی کنٹرول اور فیلڈ آپریشنز کے لئے علیحدہ شعبے ہوں گے۔اسکے نفاذ کی نگرانی کےلئے پروگرام مینجمنٹ یونٹ پہلے ہی قائم کیا جاچکاہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کرپشن کے کسی بھی طرح سے ممکنہ امکان اور مبینہ ملی بھگت کوختم کرکے ملک و قوم کی خاطر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس محصولات میں اضافہ کرنے کے لئے اٹھایا گیاہے۔






























