حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار،نو گھنٹوں میں بھی کوئی حتمی نتیجہ نہ نکل سکا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار،نو گھنٹوں میں بھی کوئی حتمی نتیجہ نہ نکل سکا۔ذرائع کے مطابق مزاکرات کا اگلا دور جلدشروع ہونے کی توقع ہے۔

ہفتہ کی رات گئے تک اسلام آباد میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات بغیرکسی حتمی نتیجے کےختم ہو گئے اور ڈیڈلاک برقرار رہا۔فریقین کے درمیان بعض نکات پر اتفاق رائےپیدا ہوا مگربانی پی ٹی آئی سے ملاقات، دیگر مطالبات اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اختلافات دور نہ ہو سکے۔ تاہم مذاکراتی وفودنےبات چیت جاری رکھنے پراتفاق کیا۔مزاکرات کاا اگلا دورجلد شروع کرنیکا فیصلہ کیاگیاہے۔

ذرائع نے بتایاکہ مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ڈیڈلاک برقرار ہے اور پی ٹی آئی نے بانی چیئرمین سے ملاقات،انکی بہنوں کی رہائی اور دیگر معاملات پر اپنے تحفظات حکومتی وفدکے سامنے رکھے۔

انہوں نے مذید کہاکہ پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ بانی سے ملاقات ہے اور یہ واضح کیا گیا تھا کہ ملاقات کے بعد ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔پی ٹی آئی رہنماعامر ڈوگر نے کہا کہ مذاکرات میں کئی نکات پر اتفاق ہوا، تاہم بعض معاملات پر اختلاف برقرار رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت ایک دن میں مکمل نہیں ہوتی۔

مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی بھرپور کوشش کی گئی، لیکن ڈیڈلاک برقرار ہے۔

ادھر حکومتی وفد کے رکن رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے اور سکیورٹی فورسز کا بھرپور ساتھ دے۔انکے مطابق مسودوں میں تین مرتبہ ترمیم کی گئی ۔تاہم خیبر پختونخوا حکومت کے رویہ کی وجہ سے معاہدہ نہیں ہوا۔

انہوں نےکہا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور انکے علاج کے معاملے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور بتایا گیا تھا کہ جیل میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور قانون و جیل کے ضابطوں کے مطابق ملاقاتیں کرائی جائیں گی، بشرطیکہ انہیں سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین