اسلام آباد(ویب ڈیسک)
4نومبر2026
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات پرسوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس پراپنااہم بیان جاری کردیاہے۔
جاری بیان میں وزیر داخلہ نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر عملدرآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔جس میں اہم نکات شامل تھے۔
وزیرِداخلہ محسن نقوی کے مطابق معاہدے کے نکات میں شامل تھا کہ سکیورٹی کی صورتحال اور سلامتی کے معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر پولیس ایکٹ 2026 پرنظر ثانی کی جائے گی، صوبے میں دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کو روکا جائے گا۔
معاہدے میں تحریک طالبان پاکستان،تحریک طالبان افغانستان اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کی دوٹوک مذمت، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت بشمول ان کی وطن واپسی اور خیبر پختونخوا میں افغان کیمپوں کا خاتمہ بھی شامل تھا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ معاہدے میں عبوری افغان حکومت سے کوئی رابطہ نہ رکھنا،انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی، انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی صوبائی سطح پر مکمل ذمہ داری قبول کرنا اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون کو مذیدمضبوط بنانا بھی شامل تھا۔علاوہ ازیں سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسداد دہشت گردی سے متعلق فیصلے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد بھی نکات میں شامل تھا۔
وزیرِداخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات مذاکرات کے آخری مرحلے میں خیبر پختونخوا حکومت ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب صوبہ حالت جنگ میں ہو تو سلامتی کے معاملات کوسیاست کی نذر نہیں کرنا چاہئے۔































