بانی پی ٹی آئی سے ایک سال سے ملاقات بند،مذاکرات صرف پیشکش کی حد تک ہیں،بیرسٹر گوہر ،سلمان اکرم راجہ

راولپنڈی (ویب ڈیسک)
06۔2026

راولپنڈی اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے کے قریب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کی ہے جس میں
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ مذاکرات کی پیشکش برائے نام ہے۔مذاکرات صرف پیشکش کی حد تک ہیں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ایک سال سے ملاقات بند ہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ ہم ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، ہماری نیک نیتی کے باوجود ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ بانی کی بہنیں غیر سیاسی ہیں اور ان کو حراست میں لے لیا گیا۔ آج اڈیالہ آئے تو بتایا گیا کہ بانی کے کزن قاسم زمان کو حراست میں لےلیا گیاہے۔قاسم زمان غیر سیاسی ہیں کبھی کوئی سیاسی بیان نہیں دیا۔ ہمارے ایم این ایز، ایم پی ایز اٹھائے گئے۔گرفتاریوں کا سلسلہ بند ہوناچاہئیے۔

انہوں نے مذیدکہا کہ ہم نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھے تھے۔حکومت نے فراغ دلی اور سنجیدگی نہیں دکھائی۔ ہم نے جو مطالبات رکھے ان میں کوئی غیر قانونی مطالبہ نہیں تھا۔ دہشتگردی پر ہمارا واضح موقف ہے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے، صوبائی اسمبلی نے دہشتگردی سے متعلق متفقہ قرارداد منظور کی۔ دہشتگردی کے اوپر پریس کانفرنس اور ٹویٹ نہیں ہونی چاہیے۔ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلالیں۔ایپکس کمیٹی میں کور کمانڈر بھی شریک ہوتے ہیں۔اگر ہماری بات نہیں مانی تو لانگ مارچ روکنے کا کوئی جواز نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر رول نافذ کرنے سے نفرتیں مزید بڑھیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل ہے اس کے لئے کوئی ٹائم نہیں ہوتا، ہم مذاکرات کے دوران کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتے رہے۔ مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ کے پی پر ڈالنا بالکل غلط ہے، ایک دو اور راؤنڈ ہوتے تو معاملہ کہیں پہنچ جاتا۔

پی ٹی آئی رہنماسلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات کا اختیار اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے پاس ہے، اگر حکومت خلوص سے مذاکرات چاہتی ہے تو ان سے رابطہ کر لے۔ ذاتی معالج تک رسائی قومی سلامتی کا معاملہ نہیں، لندن سے ڈاکٹر بلائیں گے لیکن 40 سال سے ذاتی ڈاکٹرز سے چیک اپ نہیں کرائیں گے۔

سلمان اکرم راجہ کاکہناتھا کہ بانی کی صحت، ڈاکٹروں کی رسائی اور ملاقات ہمارا پہلا مطالبہ تھا۔ دہشتگردی سے متعلق نیشنل ایکشن پلان پر کوئی اختلاف نہیں ہے، نیشنل ایکشن پلان میں ڈرون حملوں اور لوگوں کو بے گھر کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین