اسلام آباد (ویب ڈیسک)
07۔اکتوبر 2026
آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدراجمل بلوچ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کونئے قوانین کی تجربہ گاہ بنانا قابل مذمت ہے۔پلاسٹک شاپرز پر پابندی کا فیصلہ کیاہے تو تاجروں کو پہلے متبادل فراہم کیا جائے، اسکے بعد قانون پر عملدرآمد کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دودھ، دہی، گوشت، مصالحہ جات اور دیگر اشیائے خورونوش کے لیے متبادل شاپرز کا انتظام کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ پلاسٹک شاپرز بنانے والی فیکٹریوں اور ہول سیلرز کے خلاف کارروائی کے بجائے صرف دکانداروں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
اجمل بلوچ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کےمجسٹریٹوں کے ذریعے تاجروں کی تذلیل فوری بند کی جائے اور مارکیٹوں میں بلاجواز کارروائیاں روکی جائیں۔اس حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ڈاکٹر انعم فاطمہ سے بھی ملاقات میں تاجروں کامؤقف واضح کیا گیا ہے۔
انہوں نےاعلان کیاکہ جمعرات آٹھ اکتوبرکواسلام آبادکی تمام مارکیٹوں میں دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک احتجاجی شٹر ڈاؤن ہوگا۔ مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو آئندہ کا احتجاجی لائحہ عمل مذیدسخت کیا جائے گا۔
اجمل بلوچ نے کہا کہ تاجر قانون کی پاسداری چاہتے ہیں، لیکن متبادل دئیےبغیر کارروائی اور تاجروں کی تذلیل کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔































