اسلام آباد (ویب ڈیسک)
08اکتوبر2026
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو شہری کی عمارت کی مسماری اور ہر قسم کی تادیبی کارروائی سے روک دیا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے شہری ملک ممتاز علی خان کی رٹ پٹیشن پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سی ڈی اے کو نوٹس جاری کر دیا اور آئندہ سماعت سے قبل پیرا وائز کمنٹس اور رپورٹ طلب کر لی۔
درخواست گزار کے مطابق سی ڈی اے کورال چوک کے قریب سروس روڈ کی تعمیر کر رہا ہے اور یکم اکتوبر 2026 کو 3 دن کے اندر مبینہ تجاوزات ہٹانے کا نوٹس دیا تھا۔ سی ڈی اے نے 35 فٹ 7 انچ کی جگہ کو رائٹ آف وے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
درخواست گزار کا موقف ہے کہ 20 سال قبل جگہ خریدی اور 15 سال میں بھاری لاگت سے تعمیر کی۔ 10 سال قبل سروس روڈ کشادہ کی گئی تو گھر اور روڈ میں 30 فٹ کا فاصلہ چھوڑا گیا تھا۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ اگر سڑک کی مزید کشادگی کے لئے زمین درکار ہے تو قانون کے مطابق ایکوائر کی جائے اور بلاجواز اور غیر قانونی طور پر ملکیت کے حقوق میں مداخلت نہ کی جائے۔
درخواست گزار نے ویلج کرال، ہائی وے اسٹریٹ میں قائم گھر کو دئیےگئے نوٹس کو چیلنج کیا ہے۔






























