ہائیکورٹ میں غلط بیانی،ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے کی معافی مسترد، 12 نومبر کوفردجرم عائد ہوگی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)
3 نومبر 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں غلط بیانی پرممبر اسٹیٹ سی ڈی اے کی معافی کی اپیل مستردکردی گئی ہے اور فیصلہ کیاگیاہے کہ 12 نومبر کوان پرفردجرم عائد ہوگی۔منگل کواسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردارسرفراز ڈوگر نے مقدمہ کی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کہ یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم کسی کی بی ٹیم بنے بیٹھے ہیں۔ عدالت نے غلط بیانی پر ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو کی غیر مشروط معافی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 12 نومبر کو توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہائی کورٹ نے پراسیکیوٹر کو کیس کی تیاری کے ساتھ آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ آپ کا رویہ عدالتی حکم کو بلڈوز کر رہا ہے۔ یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ باقی لوگوں کو گھنٹوں بٹھایا جائے اور سوٹ ٹائی والے کو دس منٹ میں سن لیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ عدالتوں کی عزت اور وقار کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ جب کیس چیف جسٹس کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہو تو یہ سینئر کورٹ ہے، کیس کال ہونے اور سماعت شروع ہونے پر عدالت میں موجود رہنا چاہیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے کسی سے کوئی بغض نہیں، جس دن یہ آرڈر پاس ہو رہا تھا، انہوں نے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں، لیکن یہاں طبیعت خراب ہونے کا کہہ کر دوسری عدالت میں پیش ہو گئے۔ ہم نے انہیں اس روز ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا تھا۔ آپ نے 60 سال سروس کی، آپ کو یہ نہیں پتہ کہ کون سی عدالت بڑی ہوتی ہے؟ آپ کو چاہیے تھا کہ پہلے یہاں آ کر وقت دینے کی استدعا کرتے۔

زمان وٹو کے وکیل کاشف علی ملک نے کہا کہ ہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے کہ معافی تو اب بعد میں دیکھی جائے گی۔

سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے عدالت سے استدعا کی کہ کچھ وقت دیدیا جائے، اگلی سماعت پر تیاری کے ساتھ پیش ہوں گے۔ ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کی عزت کرتے ہیں اور توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ معذرت کی بات ہی نہیں، یہ تو سیدھی سیدھی توہین عدالت ہے۔ پراسیکیوٹر عدنان علی نے بتایا کہ انہوں نے جواب میں معافی نہیں مانگی۔ایسے کیس میں توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوتی ہے اور پہلے فرد جرم عائد کی جاتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس نے کہا کہ انہیں وقت دے دیتے ہیں، 12 نومبر کو آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کریں گے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین