اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی بہتری، فائر سیفٹی نظام اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے انکوائری رپورٹ میں دئیے گئے قلیل مدتی اقدامات کو آئندہ تین ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔
وزیرِ اعظم کی زیر صدارت پمز کی بہتری کے لائحہ عمل پر اجلاس ہوا جس میں پمز تحقیقاتی رپورٹ اور وزارت قومی صحت کے پرفارمینس آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ آڈٹ میں جانچے گئے انڈیکیٹرز میں 90 فیصد کے قابل قبول ہدف کے مقابلے میں صرف 39.7 فیصد کمپلائنس پائی گئی۔ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 37 مجوزہ اقدامات پر فوری عملدرآمد جاری ہے۔
اجلاس سے خطاب میں وزیرِ اعظم نے کہا:
– فائر سیفٹی کے نظام کے لیے پی کے ایل آئی سے معاونت اور تجاویز لی جائیں
– ڈبلیو ایچ اوکی رپورٹ میں موجود تجاویز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے
– ادویات اور سہولیات کی مفت فراہمی کے لیے اقدامات لائحہ عمل کا حصہ بنائے جائیں
– اہل اور باکردار افرادی قوت کو پمز میں تعینات کیا جائے
– پمز کی بہتری کے لیے طویل مدتی جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے
– پولی کلینک کا آڈٹ کر کے بے ضابطگیاں دور اور تنظیم نو کا پلان بنایا جائے
– سی ڈی اے اسلام آباد کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں، دفاتر اور عمارتوں میں فائر سیفٹی اقدامات اور آڈٹ یقینی بنائے
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفی کمال، معاون خصوصی مختار احمد بھرتھ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔































