اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان پاور سسٹم میں ایک اور انقلابی نظام کا آغازکردیا گیاہے۔جسکے تحت بجلی آپ کی فیصلہ بھی صارفین کااپنا ہوگااور اب بجلی صارفین اپنی مرضی سے بجلی خریدنے کے قابل ہوں گے۔
پاکستان پاورسسٹم میں سنگل خریدار کی بجائے مسابقتی نظام کی منتقلی کی جانب اہم پیش رفت ہوگئی ہے۔پاکستان تاریخ کی پہلی وہیلنگ نیلامی کے لیے خواہشمند اداروں سے تجاویز مانگ لی گئی ہے۔پاور ڈویژن نے بجلی کی نیلامی کے لئے ریکوئسٹ فار پروپوزل جاری کر دی ہے۔
یہ عمل بجلی کی خرید و فروخت کا دو طرفہ مسابقتی نظام سی ٹی بی سی ایم کے تحت کیا جا رہا ہے، نیلامی کے ذریعے کاروباری ادارے اور صنعتیں مسابقتی بنیادوں پر پاور پلانٹس سے بجلی خرید سکیں گے۔
آئندہ پانچ سال میں آٹھ سو میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی، پہلی نیلامی میں چار سو میگاواٹ نیلامی کے لیے پیش کئے جا رہے ہیں۔وزیر توانائی اویس لغاری نے نیلامی کے عمل کے آغاز پر وزیراعظم شہبا شریف اور قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاہے کہ اس وقت حکومت ایک نظام کے تحت بجلی خرید کر عوام تک پہنچاتی ہے، بجلی کی خریداری کی شرائط کے حوالے سے عوام کے ہمیشہ سوالات رہے ہیں، آئی پی پیز کا نام آج بدنام ہو چکا ہے، حکومت آج سے بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کسی کوحق نہیں ہوگا کہ حکومت کو بجلی بیچ سکے اور نہ حکومت خریدسکے گی۔پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے آپس میں خود خرید و فروخت کریں گے۔بجلی کی خرید و فروخت کا نظام شفافیت پر مبنی ہوگا۔اس نظام کااطلاق سب سے پہلے صنعتی یا بڑے صارفین پر ہوگا، آنے والے سالوں میں بجلی کی ایک منڈی بنے گی۔اس نظام کے تحت ایک عام صارف بھی اپنی مرضی سے بجلی خرید سکے گا، اب حکومت بجلی خرید کر زبردستی اپنے ریٹس پر عوام کو نہیں بیچ سکے گی۔
اویس لغاری نےمذیدکہا کہ پہلے مرحلے میں ایک میگاواٹ سے بڑے صارفین اس سے مستفید ہوں گے۔سستی بجلی ملنے سے انڈسٹری عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھ پائے گی اورہماری صنعتیں عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات برآمد کر سکیں گی۔انہوں نے کہاکہ جو وعدے کئے تھے وہ پورے کررہے ہیں۔ اس سے صارفین کوسہولت میسر ہوگی۔

































