(ویب ڈیسک)
قدیم ترین پارلیمانی نظام کے حامل برطانیہ نےبھی آن لائن گمراہ کن پروپیگنڈا کرنیوالوں کےخلاف گھیرا تنگ کردیا ہے۔برطانیہ، فرانس اور بھارت سمیت مختلف ممالک نے ریاست مخالف بیانات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کررکھی ہے۔
برطانوی ادارے فری اسپیچ یونین کے مطابق گزشتہ 5 برس میں 62 ہزار سے زائد افراد کو "اظہار رائے سے متعلق جرائم” کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
برطانیہ میں آزادی اظہار رائے سے متعلق جرم میں 18,510 افراد پر فرد جرم عائد جبکہ 12,292 افراد کو سزا سنائی گئی، گرفتار ہونے والے افراد میں سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
عالمی تنظیم بگ برادر واچ کا کہنا ہے کہ آن لائن سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین کی وجہ سے برطانیہ میں گرفتاریوں کی شرح میں نمایاں فرق آیا ہے۔
بھارتی میڈیا فرسٹ پوسٹ کے مطابق فرانس میں بھی سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد شیئر کرنے پر شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی ریاست بہار میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر 2026 میں 475 ایف آئی آر درج کر کے 103 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
































