اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اوروزیر مملکت بلال بن ثاقب نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں 1.3 ارب نوجوان اب بھی مالیاتی نظام سے باہر ہیں جبکہ مالیاتی نظام سے باہر تقریباً 90 کروڑ افراد کے پاس موبائل فون موجود ہیں۔
پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اقوام متحدہ کے سوشل بزنس، یوتھ اینڈ ٹیکنالوجی فورم کے افتتاحی سیشن میں پاکستان کی جانب سے عالمی منصفانہ مالی مستقبل کے لئے اہم مؤقف پیش کیا گیا۔
بلال بن ثاقب نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے مالی شمولیت کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت اور ٹوکنائزیشن کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ٹوکنائزیشن ترقی پذیر دنیا میں مالی شمولیت کے طاقتور ذرائع بن سکتے ہیں۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ مالی شمولیت کے لیے صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں بلکہ مؤثر نظام اور قواعد بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں انکشاف کیا کہ دنیا میں 1.3 ارب نوجوان اب بھی مالیاتی نظام سے باہر ہیں۔
فورم کے افتتاحی سیشن میں اقوام متحدہ اسمبلی کے صدر ڈاکٹر خلیل الرحمٰن، بھوٹان کے وزیرِاعظم اور نوبیل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس سمیت عالمی رہنماؤں اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔































