اسلام آباد (ویب ڈیسک)
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو ایک ہی واقعہ اور الزامات پردوبارہ انکوائری سے روکتے ہوئے قرار دیاہے کہ ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے شروع کی گئی بعد کی انکوائری اور سیکشن 160 ضابطہ فوجداری کے تحت جاری نوٹس قانونی اختیار سے خالی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے میر اویس کی درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کر دیاہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی اے ایبٹ آبادنے پہلے ہی اسی واقعے اورالزامات کی انکوائری مکمل کر کے معاملہ بند کر دیا تھا۔پہلے کی انکوائری ریکارڈ کی بنیاد پر مکمل کی گئی اور اسے باقاعدہ طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
وکیل کے مطابق پہلی انکوائری بند ہونے کے باوجود کافی عرصے بعد ایف آئی اے اسلام آبادنے انہی الزامات پردوبارہ کارروائی شروع کر دی۔موجودہ انکوائری کسی نئے یا الگ واقعے سے متعلق نہیں بلکہ اسی واقعے اور انہی الزامات کی بنیاد پر ہے جنکا پہلے جائزہ لیا جا چکا ہے۔
فیصلہ میں عدالت نے کہاہے کہ محض دفتر یا تفتیشی افسر کی تبدیلی سے انہی الزامات پر دوبارہ انکوائری شروع نہیں کی جا سکتی۔ایک ہی حقائق اور ایک ہی الزام کی بنیاد پر دوبارہ انکوائری کا عمل آئینی تحفظ کے منافی ہے۔پہلے ایف آئی اے ایبٹ آباد کی جانب سے مکمل اور بند کی گئی انکوائری کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔
فیصلہ میں عدالت نے قرار دیاہے کہ ایک ہی معاملے پر دوبارہ کارروائی کرنا ملزم کو ڈبل جیپرڈی یعنی ایک ہی معاملے میں دوبارہ کارروائی کا سامنا کرنے کے مترادف ہے۔عدالت نے ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے شروع کی گئی بعد کی انکوائری اور سیکشن 160 ضابطہ فوجداری کے تحت جاری نوٹس کو قانونی اختیار سے خالی قرار دے دیاہے۔
عدالت نے ایف آئی اے اسلام آباد کو اسی حقائق کی بنیاد پر مزید انکوائری آگے بڑھانے سے روک دیا اور قرار دیا کہ میر اویس کے خلاف اسی واقعے اورالزامات پرشروع کی گئی بعد کی انکوائری کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔
میر اویس نے ایف آئی اے کی دوبارہ انکوائری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایف آئی اے ایبٹ آباد پہلے ہی معاملے کی مکمل انکوائری کر کے اسے بند کر چکی تھی۔































