
پشاور(ہیرالڈنیوز)
19 اکتوبر 2026
خیبرپختونخوا میں سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں سے شعبہ تعلیم تباہی کے دہانے پر پہنچ گیاہے۔
میدانی اور پہاڑی علاقوں میں سرکاری سکولوں کی عمارتیں کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ سکولوں میں فرنیچر، پینے کا صاف پانی اور موسم سے بچاؤ کے لئے چھتیں تک موجود نہیں ہیں۔
سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے تباہ حال سکولوں کی ویڈیوز نے سابقہ حکومت اور انتظامیہ کے بلند و بانگ دعوؤں کا پول کھول دیا۔
والدین اور علاقہ مکینوں نے زبوں حال سکولوں کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیرِ نو اور بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت سے کلاس رومز اور فرنیچر سمیت تمام بنیادی سہولیات بچوں کی تعداد کے مطابق فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
بعض طالب علموں کےوالدین کے مطابق سکولوں میں طلبہ و طالبات برآمدوں میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں، عوام نے صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور محکمۂ تعلیم سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

































