25 سال بعد پنجاب میں پتنگ بازی کی واپسی، بسنت محدود اور سخت شرائط کے ساتھ بحال
پنجاب میں 25 سال بعد پتنگ بازی کی سرکاری طور پر واپسی ہوگئی ہے، جہاں صوبائی حکومت نے سخت اور منظم شرائط کے تحت بسنت منانے کی اجازت دینے کے لیے تفصیلی آرڈی نینس جاری کردیا ہے۔
یہ قانون، جس پر پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر نے دستخط کیے، ایک ایسے ثقافتی تہوار کی بحالی کا نشان ہے جس کا عوام طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔
مشروط اجازت
نئے قانون کے مطابق صوبے بھر میں پتنگ بازی کی اجازت ہوگی، مگر صرف ان قواعد و ضوابط کے اندر رہتے ہوئے جو عوامی تحفظ یقینی بنانے اور ماضی کے حادثات سے بچاؤ کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس باقاعدہ اور محدود بحالی کا مقصد پنجاب کی ثقافتی وراثت کو سنبھالنا ہے، جبکہ شہریوں کی حفاظت بھی یقینی بنانا ہے۔

خلاف ورزی پر سخت سزائیں
آرڈی نینس میں خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھاری سزائیں رکھی گئی ہیں۔ مجرموں کو:
-
کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید،
-
اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشتبہ مقامات یا گھروں کی تلاشی لینے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے، اور اس قانون کی تمام خلاف ورزیاں ناقابلِ ضمانت ہوں گی۔
خطرناک ڈور پر پابندی، عمر کی حد
پتنگ صرف سادہ دھاگے کی ڈور سے ہی اُڑائی جا سکے گی۔ دھاتی، کیمیکل لگی ہوئی یا تیز دھار والی ڈور سختی سے ممنوع ہے، اور اس کا استعمال سخت سزا کا باعث بنے گا۔
18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اُڑا سکیں گے۔ خلاف ورزی کی صورت میں:
-
پہلی مرتبہ 50 ہزار روپے جرمانہ
-
دوسری بار 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں کارروائی والد یا سرپرست کے خلاف کی جائے گی۔
رجسٹریشن اور QR سسٹم
نگرانی کو شفاف بنانے کے لیے حکومت نے مکمل رجسٹریشن سسٹم متعارف کرایا ہے:
-
پتنگ باز ایسوسی ایشنز کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں رجسٹر کروانا ہوگا۔
-
پتنگ فروش دکانداروں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی، اور ہر پتنگ پر QR کوڈ ہوگا جو فروخت کنندہ کی شناخت ظاہر کرے گا۔
-
ڈور تیار کرنے والے کاریگروں کو بھی QR کی بنیاد پر شناخت دی جائے گی۔
غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے مخبر (whistleblowers) کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔
موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی اصول
آرڈی نینس کے مطابق بسنت کے دوران ہر ضلع میں موٹر سائیکلوں پر مخصوص حفاظتی اقدامات لازمی ہوں گے، تاکہ ان حادثات سے بچا جا سکے جو اکثر آوارہ ڈور سے پیش آتے تھے۔
ثقافتی روایات کی بحالی
پتنگ بازی کی واپسی وزیراعلیٰ مریم نواز کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت گزشتہ تین دہائیوں میں ماند پڑ جانے والے پنجاب کے روایتی اور تہذیبی میلوں کو دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بسنت کی منظم واپسی ثقافتی جشن اور عوامی حفاظت کے درمیان توازن کی نئی مثال ہے، جو پنجاب کی محبوب ترین روایات میں سے ایک کے لیے نئے دور کا آغاز کرتی ہے۔
































