
اسلام آباد(ہیرالڈ نیوز)وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ تین سال کے دوران پمز ہسپتال کو 22 ارب روپے کا بجٹ فراہم کیا گیاہے۔ہیرالڈنیوز نے پمز ہسپتال کے مالیاتی بجٹ کی تفصیلات حاصل کر لیں۔
گزشتہ سال کی تفصیلات
دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال پمز ہسپتال کے لئےوفاقی حکومت نے 6 ارب 84 کروڑ روپے بجٹ مختص کیاتھا۔
تاہم پمز ہسپتال انتظامیہ نے مختص بجٹ کے برعکس 7 ارب 51 کروڑ روپے خرچ کئے۔
گزشتہ سال پمز ہسپتال انتظامیہ نے 66 کروڑ روپے اضافی بجٹ وصول کیا۔
رواں سال کا بجٹ
رواں سال پمز ہسپتال کے لئے7 ارب 63 کروڑ روپے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ریپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں پمز ہسپتال کو 50 کروڑ روپے دئیے۔
جبکہ رواں سال ریپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں 23 کروڑ روپے مختص کئےگئے ہیں۔
اہم سوال
اتنے بڑے بجٹ کے باوجود وفاقی حکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں آگ لگنے اور نومولود بچوں کی ہلاکت کاواقعہ سامنے آنے پر بجٹ کے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ادھر پمز ہسپتال کےایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندرنے ہسپتال میں آتشزدگی کے معاملے پر گفتگوکرتے ہوئے بتایا
اہم نکات
انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں آتشزدگی کے وقت عملہ موجود تھا۔
ایم سی ایچ وارڈ میں دو ڈاکٹرز اور چار نرسز ڈیوٹی پر موجود تھیں۔
ڈاکٹر رانا عمران سکندر کے مطابق ایک ڈاکٹر نے بروقت کارروائی کر کے بچے کی جان بچائی۔
سیکیورٹی اور فائر سسٹم
ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ ماضی میں بچے چوری ہونے کے واقعات کے باعث داخلہ محدود رکھا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں فائر سسٹم موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وارڈ میں 24 آکسیجن سلنڈرز موجود تھے۔
ریسکیو ٹیم کو آپریشن میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔
کارروائی کا اعلان
ڈاکٹر رانا عمران سکندر نے کہا کہ کوئی بھی قصور وار پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔
































