اسلام آباد(ہیرالڈنیوز)سانحہ پمز نے اسلام آباد کے 44 اسپتالوں کے فائر سیفٹی انتظامات کا پول کھول دیا۔
پمز ایم سی ایچ نرسری سانحہ کے بعد اہم انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔
واقعے نے اسلام آباد کے اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر بڑے سوالات اٹھا دئیے ہیں۔
44 اسپتالوں کو پہلے ہی نوٹس
ذرائع کے مطابق MCI ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اسلام آباد کے 44 اسپتالوں کو پہلے ہی فائر اینڈ لائف سیفٹی نوٹسز جاری کئے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد پولی کلینک، سی ڈی اے ہسپتال اور دیگر 42 نجی و سرکاری اسپتالوں کو بار بار خبردار کیا گیاہے ۔
MCI نے اسپتالوں کو خبردار کیا مگر فائر سیفٹی پر عملدرآمد ابھی تک نہیں ہو سکا۔
کیپیٹل ہسپتال بھی ناکام
انکشاف ہواہے کہ سی ڈی اے کا اپنا کیپیٹل ہسپتال بھی فائر اینڈ سیفٹی معیارات پورے نہیں کر سکا۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کیپیٹل ہسپتال کو فائر سیفٹی فٹنس اور ہیزرڈ الرٹ جاری کیا تھا۔
MCI نے کیپیٹل ہسپتال کی فائر سیفٹی تیاریوں پر سوالات بھی اٹھائے۔
نوٹس میں کیا کہا گیا تھا۰۰۰؟
نوٹیفکیشن میں فائر پریوینٹو، پروٹیکشن اور لائف سیفٹی آلات کی تنصیب پر زور دیا گیا تھا۔
کیپیٹل ہسپتال کو فائر سیفٹی آڈٹ اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اسپتالوں کو فائر سیفٹی کے لئے لازمی فٹنس سرٹیفکیٹس اور NOC حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
فائر سیفٹی پلانز کی منظوری اور تکمیل کا فائر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔
نوٹس میں کہا گیا کہ فائر سیفٹی پلانز PEC سے منظور شدہ MEP کنسلٹنٹ سے wet کرائے جائیں۔
فائر اینڈ ریسکیو ماہرین اور PEC رجسٹرڈ کنٹریکٹرزسے خدمات لینے کی ہدایت بھی کی گئی۔
کیپیٹل ہسپتال انتظامیہ کو تین ماہ کے اندر تمام ضروری اقدامات مکمل کرنے اور باقاعدہ فائر ڈرلز اور ایمرجنسی مشقیں کرانے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔
































