اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار)
عوامی نیشنل پارٹی کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے جمعرات کی شام ای الیون کی اک مارکی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 18ویں ترمیم پر من و عن عمل اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کر دیا۔
"پاکستان کو درست نظام درکار ہے”
ایمل ولی خان نے کہا کہ دنیا کی ہر قوم کو ایک درست نظام کی ضرورت ہے اور اس وقت پاکستان کو بھی درست نظام درکارہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
امریکہ اور ایران کے معاملے پر پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی اسی جذبے اور مؤثر سفارتی حکمت عملی کے تحت کام کیا جانا چاہیے۔
افغانستان اور سرحدی بحران
اے این پی صدر نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب ہیں۔سرحدیں بند ہونے اور تجارت متاثر ہونے سے ہزاروں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔
انہوں نے سنگین الزام لگایا کہ اطلاعات ہیں کہ نوجوانوں کو ماہانہ 15 ہزار روپے دے کر ان کے ہاتھ میں بندوق دی جا رہی ہے، جو انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔
ایمل ولی نے کہا کہ ان کے والد نے کئی دہائیاں قبل خبردار کیا تھا کہ افغانستان کی آگ کہیں پاکستان تک نہ پہنچ جائے۔
"پاکستان کا ایک ایک انچ اتنا ہی مقدس ہے جتنا وفاقی دارالحکومت، ہم صرف شہری نہیں بلکہ اس ملک کے رکھوالے بھی ہیں”
معیشت اور "ٹائم بم”
ایمل ولی خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافے کی شدید مذمت کی۔غربت ، مہنگائی ، بیروزگاری اسوقت ٹائم بم کی طرح ہیں ۔
کہا کہ "عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں تو فوری اضافہ، لیکن کم ہونے پر حکومت توجہ نہیں دیتی”۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بار بار نازک موڑ پر کھڑا قرار دیا جاتا ہے،مگر موجودہ صورتحال "ٹائم بم” ہے جس میں حکومت پر عوام کے عدم اعتماد، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کا بارود موجود ہے۔
آئینی اور سیاسی مطالبات
اے این پی صدر نے وسائل کی منصفانہ اور آئین کے مطابق تقسیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم پر من و عن عمل کیا جائے۔”ضم شدہ اضلاع کی صورتحال تشویشناک ہے، وسائل اسلام آباد سے پشاور اور پھر عوام تک پہنچنے چاہئیں”
انہوں نے تعلیم، صحت اور روزگار کوحکومت کی ذمہ داری قرار دیا۔
تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور تمام قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا۔
پارلیمنٹ اور نئے صوبے
ایمل ولی نے کہا کہ موجودہ مسائل کا حل صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ میں ہے۔
پارلیمنٹ بدقسمتی سے بالادست نہیں،نئے صوبوں کے حوالے سے کہا: "نئے صوبے عوام کی ڈیمانڈ پر بننے چاہئیں۔انہوں نے پختونوں کو تقسیم کرنے اور کشمیر و گلگت بلتستان کے انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔
دہشت گردی اور اے این پی کا کردار
دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کی کے پی کے میں حکومت نہیں ہے ۔
موجودہ حالات کی ذمہ داری موجودہ حکمرانوں کو قبول کرنی چاہیے”
انہوں نے واضح کیا کہ آج بھی دہشت گرد اے این پی کو اپنا مخالف سمجھتے ہیں”
ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق کے لیے اصولی سیاست جاری رکھے گی ۔
































