اسلام آباد(ویب ڈیسک)اسلام ہائی کورٹ نےقائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال میں غیر قانونی اعضاپیوندکاری کیس میں گرفتارسی ای اوڈاکٹر شوکت علی بنگش کی ضمانت منظور کرلی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر شوکت علی بنگش کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرنے کا حکم دیدیاہے۔
شوکت علی بنگش کوعدالت نے 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ملزم پاسپورٹ جمع کرادے اور بغیر اجازت ملک نہ چھوڑے۔جسٹس اعظم خان نے تحریری فیصلہ جاری کردیاہے۔
عدالتی فیصلہ میں کہاگیاہے کہ کیس کومذیدانکوائری بلا واسطہ کردار کی بنیاد پرشوکت علی بنگش کو ضمانت دی گئی ہے۔
ہائیکورٹ کے جاری فیصلہ کے مطابق کسی بھی ملزم کو جرم ثابت ہونے سے پہلے سزا کے طور پر جیل میں رکھنا قانون کے خلاف ہے۔محض الزام کی سنگینی ضمانت سے انکار کی وجہ نہیں بن سکتی۔
فیصلہ میں کہاگیاہے ملزم شوکت علی ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے اور نہ ہی وقوعہ کی جگہ پر موجود تھے۔کسی شریکِ جرم ملزم کا اعترافی بیان تنہا کسی دوسرے ملزم کو قصوروار ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔
یادرہے کہ ایف آئی اے نے قائدِ اعظم انٹرنیشنل ہسپتال میں غیر قانونی گردے کی پیوند کاری کے الزام میں مقدمہ درج کرکے ہسپتال کے سی ای اوشوکت علی بنگش کوگرفتارکررکھاتھا۔
































