اسلام آباد: (ویب ڈیسک) اے ڈی بی کی جانب سے جاری ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک ستمبر 2026 کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں بہتری وسیع البنیاد رہی جس میں خدمات کے شعبے کی مستحکم کارکردگی، مینوفیکچرنگ میں بحالی، زراعت میں بہتری اور نجی سرمایہ کاری میں اضافہ شامل ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کے تنازع نے مالی سال کے آخری سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027 میں بھی پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ معاشی اصلاحات پر مسلسل عملدرآمد، بیرونی مالیاتی بفرز میں بہتری، عالمی کیپیٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی اور حالیہ خودمختار کریڈٹ ریٹنگز میں اضافے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور نجی سرمایہ کاری کو سہارا ملنے کی توقع ہے، تاہم توانائی کی بلند قیمتیں اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے جاری اثرات سمیت بیرونی غیر یقینی صورتحال معاشی نمو میں مزید تیزی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
پاکستان میں اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان کی معیشت نے میکرو اکنامک استحکام کے حوالے سے پیش رفت کی ہے، جس میں بہتر معاشی نمو، مضبوط بیرونی مالیاتی بفرز، بحال ہونے والا مارکیٹ اعتماد اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری مسلسل اصلاحات کے فوائد کی عکاسی کرتی ہے جبکہ نجی سرمایہ کاری کو بڑھانے، بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں لچک مضبوط کرنے اور زیادہ مضبوط و جامع معاشی نمو کے حصول کے لیے اصلاحات کی رفتار برقرار رکھنا اہم ہوگا۔
اے ڈی بی کے مطابق مالی سال 2026 میں مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کی توسیع نے معاشی نمو میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ سیلاب سے اہم فصلوں کو ہونے والے نقصانات کے باوجود زراعت کے شعبے میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا اور کم شرح سود اور کاروباری اعتماد میں بہتری کے باعث نجی سرمایہ کاری 8.6 فیصد بڑھی۔
مالی سال 2026 کے دوران مالیاتی استحکام کا عمل بھی جاری رہا، مجموعی بین الاقوامی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا اور بیرونی مالیاتی لچک مضبوط ہوئی۔ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگز میں جولائی 2026 میں ایس اینڈ پی جبکہ اگست 2026 میں موڈیز کی جانب سے بہتری کی گئی جس میں بہتر میکرو اکنامک استحکام، مضبوط بیرونی مالیاتی بفرز اور اصلاحات پر مسلسل عملدرآمد کو مدنظر رکھا گیا۔ پاکستان نے اپریل اور مئی 2026 میں یورو بانڈ اور پانڈا بانڈز کے اجرا کے ذریعے عالمی کیپیٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی بھی حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں اوسط مہنگائی 7.1 فیصد رہی جو مالی سال 2025 میں 4.5 فیصد تھی جبکہ سال کے دوسرے نصف میں غذائی اشیا اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔ مالی سال 2027 میں اوسط مہنگائی 8.3 فیصد رہنے کی توقع ہے جو مرکزی بینک کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف سے زیادہ ہے، جبکہ توانائی، لاجسٹکس اور زرعی اجناس کی بلند لاگت مقامی قیمتوں کو متاثر کرتی رہے گی۔
اے ڈی بی کے مطابق معاشی منظرنامے کو نمایاں منفی خطرات لاحق ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شدت کے نتیجے میں توانائی کی درآمدی لاگت میں اضافہ، مہنگائی میں مزید اضافے اور خلیجی معیشتوں میں لیبر مارکیٹ متاثر ہونے سے ترسیلات زر پر اثرات شامل ہیں۔ پاکستان حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ متعارف کرائے جانے سے بھی ملکی طلب اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

































