نیویارک (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس نیویارک میں جاری ہے۔آج امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کا حوالہ دیا جسکے بعد پاکستان اور وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان کی سفارتکاری کی وجہ سے مرکز نگاہ بن رہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین اس بات پر تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ امریکی صدر نے اپنے سابقہ بیانات کی طرح اس بار بھی پاکستان کے بارے میں مثبت بات کی ہے۔
پاکستانی وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
آج پہلے روز جنرل اسمبلی کے صدر دفتر میں افغانستان اور تنازعہ کشمیر کے حوالے سے الگ الگ کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے، ایک میں دہشت گردی کے موضوع پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ کشمیر کے حوالے سے ہونے والی کمیٹی میں پاکستان کی نمائندگی سینیٹ کی رکن زرقہ تیمور نے کی جبکہ افغانستان اور دہشت گردی کے بارے میں کمیٹی میں سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کا موقف پیش کیا۔
وزیراعظم کل موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک میٹنگ میں شرکت اور خطاب بھی کریں گے۔
وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب موسمیاتی کمیٹی میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
وزیر اعظم پاکستان کی پرسوں سے ہونے والی ملاقاتیں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوں گی کیونکہ یہ ملاقاتیں امریکہ کے صدر ٹرمپ کے خطاب اور کل ایران کے صدر کے خطاب کے بعد ہوں گی۔

































