اسلام آباد (ویب ڈیسک)ایک سال سے اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان محمد کی ہلاکت معمہ بنی ہوئی ۔مرحوم کے والد ایک سال سے بیٹے کی موت کی وجہ کے تعین کے لئے قانونی جنگ میں لڑرہے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت جسٹس شاہ رخ ارجمندنے کی۔درخواست گزار محمدخان مروت اپنے وکیل احتشام اسلم ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالتی حکم پر اے ڈی سی جی ڈاکٹرانعم فاطمہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے عدالت کویقین دہانی کرائی کہ مرحوم اے سی فرقان محمد کا دو ہفتوں میں پوسٹ مارٹم اور قبر کشائی کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ بن گیا ہے،میڈیکل بورڈ کے لئے فرانزک ایکسپرٹ نہیں ملا جو فیڈرل میڈیکل کالج سے ہوگا۔ہم نے فیڈرل میڈیکل کالج کو تین خط لکھے لیکن جواب نہیں آیا۔
عدالت نے اے ڈی سی جی کو ہدایت کی کہ آپ ان سے فون پربات کرلیں اورفرانزک ایکسپرٹ کامسئلہ حل کریں۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کے احکامات پر پمز نے 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے جوشہید افسر فرقان محمد خان کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا جائزہ لے گا۔ میڈیکل بورڈ میں پمز کے مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹرز شامل ہیں اور بورڈ کے ارکان کے نام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بھجوا دیے گئے ہیں۔
دوران سماعت جسٹس شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ جس طرح پولیس میں پیٹی بھائی ہوتے ہیں ایسے یہ مرحوم اے سی میڈم کے پیٹی بھائی ہیں۔
یادرہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایچ ایٹ قبرستان میں دفن مرحوم فرقان کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا تھا۔ 31 اگست 2025 کو سیلابی علاقوں میں ریلیف آپریشن کے بعد ریسٹ ہاؤس میں مرحوم کی موت واقع ہوئی تھی۔

































