اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیاہے کہ ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے، ہر نامناسب یا ناپسندیدہ رویہ جنسی ہراسگی کےزمرے میں نہیں آتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ جنسی عنصر کے بغیر شکایت ہراسگی ایکٹ کے تحت وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، ادارہ نامناسب رویے پر اپنے سروس رولز کے تحت تادیبی کارروائی کر سکتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہراسگی قانون کا مقصد خواتین اور مردوں کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی سے تحفظ دینا ہے، ہراسگی ایکٹ کا اطلاق عمومی نوعیت کی ہر شکایت پر نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ صدرِ مملکت وفاقی محتسب کے فیصلے کیخلاف نمائندگی سننے کے مجاز ہیں، ہائی کورٹ محتسب کے فیصلے میں محدود آئینی بنیادوں پر ہی مداخلت کر سکتی ہے۔
کیس میں وفاقی محتسب نے دو بینک افسران کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنائی تھی، صدرِ مملکت نے برطرفی کی سزا تبدیل کرکے سرزنش کی سزا دی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر کا حکم کالعدم کرکے وفاقی محتسب کا فیصلہ بحال کیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 31 دسمبر 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر صدرِ مملکت کا حکم بحال کر دیا۔
اپیلوں کی سماعت چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی جبکہ اٹھارہ صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیاہے۔

































